Get Even More Visitors To Your Blog, Upgrade To A Business Listing >>

یہ رانگ نمبر ہے خان صاحب‎

تحریر: عماد ظفر

imran hassan

ہم اس ملک سے تعلق رکھتے ہیں جہاں گزشتہ ایک دہائی میں قریب 70ہزار سے زائد افراد دہشت گردی کا شکار ہو کر لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کے جوان ہوں یا سکولوں یونیورسٹیوں میں جانے والے معصوم طلباء۔ ان سب کو دہشت گردوں نے بدترین طریقے سے قتل کیا۔اتنا خون بہنے اتنی غارت و قتل گری کے بعد بھی ،دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی قوم ہو جو دل ہی دل میں پھر بھی ان دہشت گردوں سے ہمدردی رکھے اور جس کے رہنما ٹی وی چینلوں پر آ کر ببانگ دہل اعلان کریں کہ طالبان کے ساتھ مزاکرات ہونے چاہیئں۔

جناب عمران خان نے حال ہی میں ایک بار پھر ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ عمران خان کا یہ بیان قابل مذمت تو ہے لیکن بہرحال وہ کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کر دیتے ہیں وگرنہ حکمران جماعت بھی اس کام میں ان سے پیچھے نہیں۔طالبان سے پنجاب میں حملے نہ کرنے کی مبینہ طور پر گارنٹیاں لے کر اور ان کی بغل بچہ شدت پسند تنظیموں کو چھوٹ دیکر حکمران جماعت محض دہشت گردی ختم کرنے کے بیانات پر زور صرف کرنے میں دکھائی دیتی ہے۔ دوسری جانب عسکری قیادت بھی ڈبل گیم کھیلنے سے باز نہیں آرہی۔ افغانستان میں طالبان کی پشت پناہی کر کے ان سے افغان حکومت کے مزاکرات کروانا آج بھی عسکری قیادت کی اولین ترجیح ہے۔ پالیسی سازوں کی یہ روش دیکھتے ہوئے یہ کہنا ہرچند مشکل نہیں ہے کہ بجائے دہشت گردوں اور دہشت گردی کا صفایا کرنے کے آج بھی گڈ اور بیڈ شدت پسندوں کو ریاستی سطح پر پالنے کا عمل جاری و ساری ہے۔اور یہ انتہائی تکلیف دہ امر ہے۔

افغانستان میں طالبان کو مضبوط کر کے عسکری محاذ پر اور وسائل پر قبضے کی جنگ میں شاید تھوڑا سا حصہ تو مل سکتا ہے لیکن اس کی قیمت پھر آرمی پبلک سکول اور چارسدہ یونیورسٹی کے بےگناہ بچے اپنے لہو سے چکاتے ہیں۔ افغانستان میں عمل دخل کا شوق نہ جانے اور کتنے بے گناہوں کا خون پاکستان میں مانگے گا۔ ہر دہشت گردی کے سانحے کے بعد قربانی کا راگ الاپ کر عجیب و غریب گانے بنانے کا سلسلہ شاید پالیسی سازوں کو پسند آ گیا ہے۔ اس سے نہ صرف عوام کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹا دی جاتی ہے بلکہ بہت سے معزز افسران کا موسیقی اور فنون لطیفہ سے رغبت کا شوق بھی تسکین پاتا رہتا ہے۔

عمران خان ایک ایسی جماعت کے رہنما ہیں جو زیادہ تر شہری علاقوں میں اور اعلی تعلیم یافتہ حلقوں میں اپنا ووٹ بنک رکھتی ہے۔ جس کے چاہنے والوں میں روشن خیال سوچ رکھنے والوں کی بہتات ہے۔ایسی جماعت کا سربراہ اگر طالبان سے مزاکرات کرنے کی بات کرے تو اندازہ لگانا ہر چند مشکل نہیں کہ دشمن کی کمر ٹوٹی نہیں بلکہ صرف ہلکے سے درد کا شکار ہے۔ عمران خان کے بیان پر کم سے کم مجھے نہ تو کوئی تعجب ہے اور نہ ہی کوئی حیرت کیونکہ کم سے کم وہ اس بات کو عوام کے سامنے کھل کر بیان کرنے کا حوصلہ تو رکھتے ہیں۔ ہماری دیگر جماعتیں تو طالبان کا نام لینے سے ہی ڈرتی ہیں اور اگر مذمتی بیان دینا پڑ جائے تو فورا طالبان کے رہنماوں سے معافی بھی طلب کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں عوامی نیشنل پارٹی ،پیپلز پارٹی اور متحده قومی مومنٹ کم سے کم تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون سے زیادہ بہتر اور دوٹوک موقف انتہا پسندوں کے خلاف رکھتی ہیں۔اس دو ٹوک موقف رکھنے کی قیمت ان جماعتوں کو کبھی اپنے رہنماوں کی جان کا نذرانہ دے کر بھگتنی پڑتی ہے اور کبھی انتخابات میں الیکشن مہم آزادی سے نہ چلانے کی صورت میں سزا بھگتنا پڑتی ہے۔ لیکن بہر حال شدت پسندوں دوارے ان جماعتوں کا دو ٹوک موقف قابل تعریف ہے۔

طالبان صرف ایک مسلح گروہ کا نام نہیں بلکہ ایک سوچ کا نام ہے جس کوضیاالحق اور حمید گل جیسے افراد حمایت دیتے آئے ہیں۔ اور آج بھی اس سوچ کی آبیاری کرنے والے افراد ہر شعبہ زندگی میں موجود ہیں۔اگر عمران خان کے بیان کو مان کر طالبان سے مذاکرات کا آغاز کر لیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم ایک نئی روایت کا آغاز کر رہے ہیں اور وطن عزیز میں کل کو کوئی بھی مسلح گروہ طاقت کے دم پر اور بندوق کے زور سے جب چایے ریاست کو یرغمال بنا کر اپنے مطالبات “جبری مزاکرات” کے ذریعے منوا سکتا ہے۔ ان مزاکرات کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم ان تمام بے گناہ افراد کے خون کو بھلا دیں جو طالبان کے ہاتھوں زندگی کی نعمت سے محروم ہو گئے ۔یقینا جناب عمران خان یا ان جیسی سوچ رکھنے والوں کے پاس ان افراد کے لہو کو معاف کرنے کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے جناب عمران خان نے طالبان سے مزاکرات کا بیان محض “سیاسی” سمجھ کر دیا ہو اور کل کو وہ اپنے دیگر بیانات کی طرح اس بیان کو بھی “سیاسی” قرار دے کر اس سے مکر جائیں۔لیکن شاید انہیں احساس نہیں کہ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کے طور پر اس طرح کے بیانات ذہن سازی اور رائے عامہ پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ جنگ کوئی سیاسی لڑائی نہیں ہے جو اس طرح کے غیر متوازن یا سیاسی بیانات کی متحمل ہو سکے۔ نہ ہی یہ جنگ مبہم موقف یا شدت پسندوں دوارے دوہری پالیسی رکھ کر جیتی جا سکتی ہے۔ ایک نئے قومی بیانیے جو کہ عدم تشدد پر مبنی ہو، اس کی تشکیل کیلئے سیاسی جماعتوں اور رہنماوں کا شدت پسندی کے خلاف واضح اور دو ٹوک موقف رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

خیبر پختونخواہ تو خود دہشت گردی کی آگ میں سب سے زیادہ جل رہا ہے اور وہاں کی حکمران جماعت ہونے کے ناطے سے تحریک انصاف اور اس کے چیئر مین کو شدت پسندی کی روک تھام کیلئے اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے نا کہ طالبان سے مزاکرات کی۔ غالبا اب کم سے کم سیاسی جماعتوں کو اس نقطے پر اتفاق کی ضرورت ہے کہ دہشت گردوں سے کسی بھی قیمت پر مزاکرات نہیں کیئے جائیں گے اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ان کا پیچھا کیا جائے گا ۔شدت پسندوں کے سہولت کار جہاں بھی پائے جائیں ان کے خلاف ٹھوس اور جامع اقدامات کئیے جائیں۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کو بھی اب یہ طے کرنا ہو گا کہ آخر کب تک پنجاب میں شدت پسند جماعتوں اور گروہوں کے ہاتھوں “سیاسی یرغمال” بن کر محض اقتدار کو دوام دینے کا عمل جاری رکھنا ہے۔ پنجاب میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں جتنی تاخیر برتی جائے گی اتنا ہی دہشت گردی کی یہ جنگ طول پکڑتی جائے گی۔ امید غالب ہے کہ مسلم لیگ نون پنجاب سے شدت پسندی کے خاتمے کی جانب سنجیدگی دکھائے گی اور عملی اقدامات کا مظاہرہ کرے گی۔ اسی طرح تحریک انصاف کے رہنماوں کو اپنے چئیرمین کو قائل کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ طالبان سے مزاکرات پر زور دینے کے بجائے اپنا زور شدت پسندی اور طالبانی ماینڈ سیٹ کے خاتمے کیلیے صرف کریں۔ ایک بہتر اور پر امن پاکستان کیلئے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنے اور عمل کی ضرورت ہے۔

قوی امید ہے کہ سیاسی قائدین اور جماعتیں اس ضمن میں عوام کو مایوس نہیں کریں گی۔ ویسے جناب عمران خان نے مشہور بولی وڈ فلم پی کے تو دیکھ رکھی ہو گی جو انکے پرانے دوست عامر خان کی شاندار اداکاری اور اپنے اچھوتے خیال کی وجہ سے بے پناہ مقبول ہوئی۔ جس میں پی کے ایک ایسا کرادار ہوتا ہے جو دوسرے سیارے سے زمین پر آتا ہے اور ہم زمین والوں کی دھوکہ دہی اور ایک دوسرے کی مارنے کی عادات کو دیکھ کر حیران ہوتا ہے۔ اور استعارا ہر اس فرد کو رانگ نمبر قرار دیتا ہے جو زمین پر فتنہ پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔اس کردار پی کے کی زبان میں جناب عمران خان سے اتنی سی عرض ہے کہ طالبان سے گوشہ ہمدردی رکھنا چھوڑ دیجئے ۔کیونکہ طالبان “رانگ نمبر ” ہے خان صاحب۔



This post first appeared on Pak Tea House | Pakistan – Past, Present And Fut, please read the originial post: here

Share the post

یہ رانگ نمبر ہے خان صاحب‎

×

Subscribe to Pak Tea House | Pakistan – Past, Present And Fut

Get updates delivered right to your inbox!

Thank you for your subscription

×