Get Even More Visitors To Your Blog, Upgrade To A Business Listing >>

اللہ سے معافی مانگنے کا گر

ALLAH SE MUAFI MANGNAY KA TARIQA, ASTAGFAR KA TARIQA


امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ھیں کہ عام آدمی کا گناہ چھپانا واجب جبکہ عالم کا گناہ چھپانا فرض ھو جاتا ھے کیونکہ لوگ اس سے دلیل پکڑتے اور گناہ پر جری ھوتے ھیں ! خیر گنہگار تب تک ھی کام کی چیز رھتا ھے جب تک اسے احساس رھتا ھے کہ وہ گنہگار ھے ! اس احساس کے تحت اللہ پاک
اسے اپنی رحمت کے آئی سی یو وارڈ میں رکھتا ھے اور اس کے قلب کا دورہ کرتا رھتا ھے،، مگر جب وہ سمجھتا ھے کہ وہ گنہگار نہیں ھے تو اللہ بھی اسے آئی سی یو سے جنرل وارڈ میں شفٹ کر دیتا ھے جہاں ھاؤس جاب والے ھی اسے ڈیل کرتے ھیں،، بندے کو یہ گھمنڈ ھو جائے کہ وہ نیک ھے یا یہ گمان ھو جائے کہ وہ بے گناہ ھے ! نتیجہ دونوں کا رب کی رحمت سے دوری ھے !!

قصہ ابلیس اس معاملے میں ایک عبرت ناک مثال ھے،، سجدے سے اسے اس گھمنڈ نے روکا کہ وہ آدم سے بہتر ھے،، تو توبہ اسے اس گمان نے نہیں کرنے دی کہ اس کی تو کوئی غلطی ھے ھی نہیں توبہ کس بات کی ؟ مولوی جب خود نیک بن کر اور گناہگاروں کا وکیل بن کر تصور میں کالا کوٹ پہن کر رب کی عدالت میں پیش ھوتا ھے تو دھتکار دیا جاتا ھے، مگر جب خود کو بڑا پاپی سمجھ کر پاپیوں کے ساتھ جھکی اور ندامت زدہ آنکھوں کے ساتھ ،، شرمسار دل اور ضمیر کے ساتھ مجرم بن کر اللہ کے سامنے پیش ھوتا ھے تو پھر اپنے ساتھ دوسروں کی بخشش کا سامان بھی کر دیتا ھے !

ایک اللہ والے کے پاس بستی والے حاضر ھوئے کہ " حضرت قحط سالی نے تباہ و بدحال کر کے رکھ دیا ھے - آپ اللہ کے مقبول و محبوب بندے ھیں ، اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ ھمیں اور ھماری خطائیں معاف کر دے ! وہ چونکہ اصلی اللہ والا تھا، اور اللہ پاک کا مزاج شناس تھا،، وہ تڑپ اٹھا ،، اس نے کہا لوگو ! جس کے کئے پر پکڑے گئے ھو اسی کو سفارشی بنانے چلے آئے ھو ؟ میں نے مانگا تو بارش کی بجائے لاوا برسے گا ! مجھے اس بستی سے نکل جانے دو پھر اللہ سے مانگو گے تو بارش برسا دے گا !

اس نے اپنے کپڑے سمیٹ کر ایک تھیلے میں ڈالے جوتے پہنے اور رو رو کر اللہ سے دعا کی " یا اللہ میرے گناھوں کی سزا ان معصوموں کو نہ دے ،، میں یہ بستی چھوڑ رھا ھوں ،میری وجہ سے روٹھی ھوئی رحمت کو ان کی طرف متوجہ کر دے ،،بزرگ کے ساتھ لوگ بھی رو رھے تھے کہ آسمان بھی رو پڑا،، اس طرح ٹوٹ کر رحمت برسی کہ جل تھل کر دیا ! نہ صرف سات آسمان بلکہ خود اللہ کے ڈیرے بھی انسان کے اندر ھیں ،، حدیث قدسی میں فرمایا ھے کہ میں زمین آسمان میں نہیں سماتا مگر بندہ مومن کا قلب مجھے سمو لیتا ھے ! بارش انسان کے اندر سے برستی ھے اور اندر سے ھی روکی جاتی،، جب تک انسان کی آنکھ نم رھتی ھے آسمان بھی نمناک رھتا ھے،، جب انسان کے اندر شقاوت اور سختی پیدا ھوتی ھے تو آسمان بھی سختی اور خشکی سے تڑخ تڑخ جاتا ھے !

خیر عرض کر رھا تھا کہ گنہگار دو قسم کے ھوتے ھیں ایک تو وہ جو گنہگار ھوتے بھی ھیں اور اپنے آپ کو سمجھتے بھی ھیں،، دوسرے وہ جو گنہگار ھوتے تو ھیں مگر اپنے کو گنہگار سمجھتے نہیں بلکہ ادب کی وجہ سے انکساری کا اظہار کرتے ھوئے اپنے کو گنہگار کہتے ھیں اور اس پر بھی اجر کے امیدوار ھوتے ھیں کہ انہوں نے گنہگار نہ ھوتے ھوئے بھی گناہ کا اعتراف کیا ھے،جس طرح آپ مشین پہ بل جمع کراتے ھوئے بڑا نوٹ جمع کرا دیں تو مشین ایکسٹرا پیسے ایڈوانس آپ کے اکاؤنٹ میں جمع کر دیتی ھے ! دعا مانگنے کا مزہ اصلی گنہگار کے پیچھے ھی آتا ھے،، نہ کہ اس کے پیچھے جو دعا کو احسان چڑھا کر مانگ رھا ھو !

جس طرح اصلی مریض کی چیخ و پکار اور درد سے تڑپنا دوسرے انسان کے رونگٹے کھڑے کر دیتا ھے یہی کیفیت اصلی گنہگار کے ساتھ کھڑے ھو کر ھوتی ھے ،، حج کے دوران میدان عرفات میں تھے ،، 3 بجے کے لگ بھگ ھم دو تین ساتھی باھر نکلے کہ جبلِ رحمت کی طرف چلیں ، خیمے سے نکل کر کوئی 200 گز دور گئے ھونگے کہ اچانک رونے دھونے اور چیخ و پکار کی آوازیں کان میں پڑیں ،، سوچا کوئی حاجی بےچارہ اللہ کو پیارا ھو گیا ھے ،، پاس جا کر دیکھا تو مجمع لگا ھوا تھا، ایک موٹا تازہ اور لمبا دھڑنگا گنہگار رو رو کر اور بلک بلک کر اللہ سے معافیاں مانگ رھا تھا،، وہ اردو میں دعا کراتے کراتے اچانک پنجابی میں دہائی دینے لگتا ،، بس جناب دل کے سوتے کھل گئے سوچا رحمت تو ادھر برس رھی ھے ھمارے خیمے کے پاس ،، چونکہ وہ بھی بار بار مٹی اٹھا کر اپنے سر پر ڈال رھے تھے ھم نے بھی ریت کی مٹھی بھری اور سر پر ڈال کررونا شروع ھو گئے،، رونے میں ھمیں بچپن سے کمال حاصل تھا، ماسٹر حسن اختر صاحب دوسری صف کو مار رھے ھوتے تھے اور ھم سامنے کی صف میں ایڈوانس رو رھے ھوتے تھے !
دعا جب ختم ھوئی تو میں اس گنہگار کے ھاتھ چومنے کے لئے آگے بڑھا جس نے ھمیں دھوبی کی طرح نچوڑ کر گند نکال دیا تھا،، اگر وہ " گنــد "ھم میدانِ عرفات سے بھی واپس لے آتے تو پھر وہ کسی لانڈری میں نہیں دھل سکتا تھا ! پاس پہنچے تو پتہ چلا کہ " آنجناب " کا نام الیاس کاشمیری تھا جو غالباً پنجابی فلموں کے ولن تھے اور بڑے قد آور شخص تھے ! بس جو مزہ الیاس کاشمیری کے پیچھے دعا میں آیا وہ پھر کبھی نصیب نہ ھوا اگرچہ کئ چکر عرفات کے لگ گئے مگر کوئی الیاس کاشمیری نہ ملا جو ھمیں نچوڑتا !

قاری حنیف ڈار ـ


This post first appeared on Urdukahani, please read the originial post: here

Share the post

اللہ سے معافی مانگنے کا گر

×

Subscribe to Urdukahani

Get updates delivered right to your inbox!

Thank you for your subscription

×