Get Even More Visitors To Your Blog, Upgrade To A Business Listing >>

تعمیری رویہ اختیار کریں

اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگوں سے ملتے ہوئے آپ پر گھبراہٹ طاری نہ ہو تو آپ کو چاہیے کہ اپنی ذات کے سلسلے میں بھی تعمیری رویہ اختیار کریں۔ اگر آپ کی شخصیت میں یہ خامی موجود ہے تو پریشان نہ ہوں۔ اگر آپ پریشان ہوں گے تو ایسی خامیوں میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہو گا۔ آپ کو چاہیے کہ آپ اپنی ذات کے بارے میں تخریبی نہیں بلکہ تعمیری رویہ اختیار کریں۔ اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ زندگی پھولوں کی سیج نہیں تو پھر آپ کو چاہیے کہ ہمت سے کام لیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں مسرت کے پہلو تلاش کریں تاکہ زندگی کی تلخیوں کی تلافی ہو سکتے۔ زندگی جواں ہمت افراد کی طرح گزاریں، روتے بسورتے بچوں کی طرح نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر آپ ہمیشہ زندگی کے المیوں پر نگاہ رکھیں گے تو آپ کی زندگی تاریک ہوتی چلی جائے گی۔ 

جن لوگوں کے رویہ میں قنوطیت ہوتی ہے وہ ہمیشہ پریشان اور غمزدہ رہتے ہیں۔ خود کو قابل رحم تصور نہ کریں۔ اگر آپ ہمیشہ زندگی کے تاریک پہلو پر نگاہ رکھیں گے تو آپ کو ہر واقعہ ایک المیہ محسوس ہو گا۔ جب لوگ آپ سے مہربانی کا سلوک کریں گے تو آپ سوچیں گے کہ وہ مجھے بیوقوف بنا رہے ہیں اور اگر وہ آپ پر نکتہ چینی کریں گے تو آپ یہ کہیں گے کہ وہ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ اس طرح آپ ایک اعصابی تناؤ میں مبتلا ہو جائیں گے اور آپ محسوس کرنے لگیں گے کہ لوگوں سے ملنا جلنا ایک انتہائی ناخوشگوار کام ہے۔ اس سے آپ کی ساری سماجی زندگی متاثر ہو گی۔ لہٰذا ضروری ہے کہ آپ زندگی کے بارے میں ایک صحت مندانہ رویہ اختیار کریں۔ 

یاد رکھیں کہ انسان میں ہزاروں خامیاں ہوں تب بھی انسان ایک دلچسپ مخلوق ہے اور اس قابل ہے کہ اس کے قریب آیا جائے اور اس سے رشتہ تعلق استوار کیا جائے۔ زندگی کے بارے میں ہر آدمی کے خیالات مختلف ہوتے ہیں۔ ہر آدمی اپنا الگ زاویۂ نگاہ رکھتا ہے۔ اگر ہم ہٹ دھرمی اور ضد چھوڑ دیں۔ اپنی ذات میں قوت برداشت پیدا کریں اور دوسروں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کریں تو حقیقت یہ ہے کہ ہماری ذات دوسروں کے لیے انتہائی پرکشش بن جائے گی۔ جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ ناکامی ہمارا مقدر بن چکی ہے تو پھر ہماری شخصیت بے رنگ ہو جاتی ہے اور ہم میں کوئی ایسی بات نہیں رہتی جو دوسروں کے لیے دلچسپی کا سامان ہو۔ ان میں زندگی کی امنگ پیدا کرے۔

مایوسی کا شکار وہی لوگ ہوتے ہیں جو اپنی ذات کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور خود کو ایک قیمتی چیز سمجھتے ہیں۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم تو ایک ہیرے کی مانند ہیں لیکن دنیا نے ہمیں مٹی میں ملا دیا ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ دنیا ہمارے قابل نہیں۔ چنانچہ وہ زندگی کے ڈرامے میں اپنا کردار ادا کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ اس طرح کا رویہ ایک طرح کی نفسیاتی بیماری ہے۔ اس قسم کے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ ہر وقت دوسروں کی توجہ کا مرکز بنے رہیں۔ اگر دوسرے ان کی طرف مسلسل توجہ نہ دیں تو وہ انتہائی مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ ہمارے بچپن کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم ہمیشہ ساری کائنات کی توجہ کا مرکز نہیں رہ سکتے۔ 

لیکن اس کے باوجود ہم اس ناخوشگوار حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ اگر آپ میں دوسروں کی توجہ کا مرکز بنے رہنے کی خواہش غیر معمولی طور پر زیادہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ میں بھی ذہنی پختگی پیدا نہیں ہوئی۔ جو لوگ اس ’’بیماری‘‘ میں مبتلا ہوتے ہیں ان میں خود پرستی حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ ان کی خود پرستی اور معاشرے کے درمیان ہمیشہ جنگ جاری رہتی ہے۔ ایسے لوگ اپنی ذات تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔ جب بھی کوئی شخص ان پر کم توجہ دیتا ہے، ان کی انا یا خود پرستی کے جذبے کو سخت ٹھیس پہنچتی ہے۔ چنانچہ وہ غمزدہ ہو جاتے ہیں اور اپنی ذات کو انتہائی شکست خوردہ محسوس کرتے ہیں۔ 

شکست خوردگی کی اس حالت میں ایسا آدمی یہ محسوس کرتا ہے جیسے ایک انتہائی ناکام شخص ہے جسے کوئی بھی قابل توجہ نہیں سمجھتا۔ یاد رکھیں کہ خود پرستی ایک دھوکا ہے، ایک ایسا دھوکا جو ہم خود اپنی ذات کو دیتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک شخص کبھی بھی ساری دنیا کی توجہ کا مرکز نہیں بن سکتا۔ یہ ایک ناممکن بات ہے چنانچہ عقل مند لوگ ناممکن باتوں کے غم میں پریشان نہیں ہوتے۔ ہر سمجھ دار آدمی یہ جانتا ہے کہ انسان میں کئی خامیاں ہوتی ہیں اور زندگی میں اسے کئی بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

وقار عزیز


 



This post first appeared on Improve Your Life, please read the originial post: here

Share the post

تعمیری رویہ اختیار کریں

×

Subscribe to Improve Your Life

Get updates delivered right to your inbox!

Thank you for your subscription

×