Get Even More Visitors To Your Blog, Upgrade To A Business Listing >>

شیخ ابن العربی کون تھے – ایک مختصر تعارف

ابن العربی کون تھے ۔

ابن العربی: آج کل پورے ملک میں ارطغل غازی کے چرچے ہیں جن کو تین براعظم پر مشتمل خلافت عثمانیہ کا بانی تصور کیا جاتا ہے ان کو ایک ممتاز صوفی ابن العربی کی رہنمائی حاصل تھی کہا جاتا ہے کہ خلافت عثمانیہ کا قیام ابن العربی کی روحانی خدمات کے بغیر ممکن نہیں تھا ۔

ابن العربی کے نام اور خطابت 

ابن العربی شیخ الاکبر کا خطاب دیا گیا تھا ابن العربی کا مکمل نام محمد بن محمد ابن العربی البطائی الحاتمی اندیسی تھا کہا جاتا ہے کہ تصوف اسلامی میں وحدت الوجود کا تصور سب سے پہلے انہوں نے پیش کیا تھا ان کا قول ہے کہ باطنی نور خود رہبری کرتا ہے ۔

ابن العربی کی تصانیف

ان کی تصانیف پانچ سو کے قریب بتائی جاتی ہیں جن میں فصوص الحکم اور فتوحات المکیہ جس کے صفحات کی تعداد چار ہزار ہے بہت مشہور ہیں ۔ وہ اندلس کے شہر مرثیہ میں ستائیس رمضان المبارک پانچ سو ساٹھ ہجری بمطابق گیارہ سو پینسٹھ عیسوی میں ایک معزز عرب خاندان میں پیدا ہوئے جو مشہور زمانہ حاتم طائی کے بھائی کی نسل میں سے تھا ابن العربی ابھی آٹھ برس کے تھے کہ انکے خاندان کع ہجرت کرنا پڑی عشیلیہ جو موجودہ پرتگال کا دارلحکومت تربت میں ہے

عبشیلیہ میں ان کو اپنے وقت کے نامور علماء میں بیٹھنے کی سعادت حاصل ہوئی ابن العربی بیان کرتے ہیں کہ وہ کسی امیر کبیر شخص کی دعوت میں مدعو تھے کھانے کے بعد جب جام گردش کرنے لگا اور صراحی ان تک آپہنچی تو ایک غائبی آواز ان تک آئی  کہ اے محمد کیا تمہیں اس لئیے پیدا کیا گیا ہے وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور پریشانی کے عالم میں گیٹ سے باہر چلے گئے

باہر انہوں نے گیٹ کے باہر چرواہے کو دیکھا جس کا لباس مٹی سے اٹا ہوا تھا انہوں نے اس کو کہ کر اپنا لباس اس کے ساتھ بدل دیا اور اس کے ساتھ ہو لئیے اور ایک قبرستان میں جا پہنچے اور ایک ٹوٹی قبر میں بسیرا کر لیا ۔چار روز کے بعد وہ قبر سے باہر نکلے اور اپنے ساتھ علم کا دریا لے کر آئے انہوں نے دو سال تک سرکاری ملازمت اختیار کی فوجی بھرتی ہو گئے انکے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا کہ انہوں نے نوکری چھوڑ دی ۔

ابن العربی كا سفر نامہ

ابن العربی نے پہلی پانچ سو نوے ہجری میں اندلس کی سرزمین سے باہر کا سفر کیا انہوں نے تیونس اور مراکش کا بھی سفر اختیار کیا  جہاں پر انکی ملاقات اپنے زمانہ کے مشہور صوفیاء کرام سے ہوئی ۔انہوں نے اپنے روحانی درجے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مسجد الاظہر  میں ایک نور کو دیکھا وہ وقت عصر کی نماز کا تھا وہ نور ہر چیز کو منور کر رہا تھا اس سے وہ یہ تمیز بھول بیٹھے تھے کہ آگے کیا ہے یا پھر پیچھے کیا ہے وہ بتاتے ہیں کہ اس کا تجربہ ان کو پہلے بھی ہو چکا ہے جس میں ان کو صرف سامنے کی چیزیں دکھائی دیتی ہیں لیکن اس کشف کے بعد انکو چاروں اطراف کی چیزیں نظر آنے لگیں تھیں ۔

وہ ایک بلند پایہ شاعر بھی تھے اور مکہ میں ان کی شاعری عروج پر تھی چھ سو ایک ہجری میں مکہ سے روانہ ہو کر بغداد کے موصل سے ہوتے ہوئے چھ سو تین ہجری کو قاہرہ پہنچے جہاں انہوں نے اگلے برسوں میں مزید سفر اختیار کئیے چھ  سو بیس ہجری میں دمشق کو اپنا وطن بنالیا جہاں کے حاکم وقت نے ان کو آکر رہنے کی دعوت دی تھی ۔

وفات

بارہ سو چالیس ہجری میں آپ نے دمشق میں وفات پائی ۔

ابن العربی کا مزار

ابن العربی کا مزار دمشق میں ہے یہ ایک پہاڑ ہے جسے جبل کا سیون کہتے ہیں وہاں پہاڑ کے ساتھ ہی ایک مسجد ہے اور تہ خانہ میں ابن العربی کا مزار ہے

ابن العربی کے اقوال

آنکھ اس کے سوا کچھ نہیں جانتی  صرف وہی جانا جاتا ہے ہم اسی کے  ہیں اور اسی کے وسیلے سے ہم موجود ہیں ۔

زیادہ سے زیادہ کا انتخاب کریں اپنے آپ سے مطمئن رہیں یہاں تک کہ اگر دوسرے کے پاس اس سے کم ہے درحقیقت کم رکھنے کو ترجیح دیں ۔

اپنی عبادت اور اپنی دعاوں میں اپنے رب کے قریب آنے کے لئیے ہر کام کرو سوچئیے ہر عمل آپکا آخری عمل ہو سکتا ہے ہر دعا آپکا آخری سجدہ تاکہ آپکو دوسرا موقع نہ ملے اگر آُپ یہ کرتے ہیں تو یہ سچا اور مخلص بننے کے لئے اچھا ہو گا ۔

میں محبت کے مزہب پر یقین رکھتا ہوں کیونکہ محبت میرا مذہب اور میرا  ایمان ہے ۔

میں وجود کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوں

پوشیدہ دنیا کی چیزیں مجھے حقیقی زندگی سے زیادہ اپنی طرف راغب کرتی ہیں ۔

خدا آپ کے معاونین اور ان لوگوں کی مدد کرے گا جن کی مدد کریں گے

اس دنیا کی خواہشات سمندری پانی کی طرح ہیں  جتنا آپ اس میں سے پیتے جائیں گے اتنا ہی آپکو پیاس لگے گی ۔

اپنی روح کو شک سے پاک کرو ۔

میرا دل ہر شکل پر قابو ہو گیا ہے ۔

جہاں بھی آپ رجوع کرتے ہیں وہاں اللہ کا چہرہ موجود ہوتا ہے ۔ –

اگر آپ اتحاد پر قائم ہیں تو آپ حق کے ساتھ ہیں ۔

 اگر میں اس کے قریب ہو تو وہ مجھے اور بھی قریب لاتا ہے ۔

جہاں آپ اپنے آپکو جان لیتے ہو تو آپکا میں غائب ہوجا ہے ۔

ہر پرندہ اپنے جھنڈ کے ساتھ اچھا لگتا ہے شاہین شاہین کے ساتھ اور کوا کوا کے ساتھ۔

جب دل اپنی خواہشات سے جکڑا ہوا ہو تو وہ خدا کا سفر بھلا کیسے کر سکتا ہے ۔

اگر انسان اپنے آپ کو جان لے تو لیکن وہ خدا کو بھی جان،لے گا اور اگر وہ واقعی خدا کو جان لے اور خدا سے مطمئین ہو جائے تو وہ صرف اس کے بارے میں جاننے لگے گا ۔

جب میرا محبوب ظاہر ہوتا ہے تو میں اسے کس آنکھ سے دیکھوں؟میری آنکھ اس کی آنکھ نہیں ہے  کیونکہ اسے اپنے سوا کسی آنکھ سے نہین دیکھ سکتا ۔

جان لو جب بھی کوئی چیز دوسرے میں گھل مل جاتی ہے تو وہ دوسرے میں سمجھی جاتی ہے ۔

ہم ہر چیز پر انحصار کرتے ہیں ۔

دوسری چیزوں پر ہمارا انحصار حقیقت میں اس پر انحصار ہے کیونکہ وہ اس کے ظہور کے سوا کچھ بھی نہیں ۔

مزید پڑھیں: فیس بک نے طلباء کے لئے ایک زبردست فیچر متعارف کروا دیا

The post شیخ ابن العربی کون تھے – ایک مختصر تعارف appeared first on Fukatsoft Blog.



This post first appeared on How Cancer Begins, please read the originial post: here

Share the post

شیخ ابن العربی کون تھے – ایک مختصر تعارف

×

Subscribe to How Cancer Begins

Get updates delivered right to your inbox!

Thank you for your subscription

×