Get Even More Visitors To Your Blog, Upgrade To A Business Listing >>

مرحوم”اسلم’ بھی تھےاور’اظہر”بھی

تحریر: طاہر احمد بھٹی۔فرینکفرٹ۔جرمنی اسلام آباد ان دنوں کشادہ بھی تھا اور کھلا بھی اور سردیاں آتی تھیں لیکن ان میں سرد مہری کم ہوتی تھی۔ یہ 1993 کا جنوری تھا اور اسلم اظہر صاحب ان دنوں ایف۔8 سیکٹر میں سکونت پزیر تھے۔ ایک مخلوط، مربوط اور محدود سی مجلس اسلم اظہر صاحب کے گھر پہ جمی تھی جس میں آداب اور رکھ رکھاو تو تھا لیکن مرعوب کن گھٹن نام کو بھی نہیں تھی۔ نسرین اظہر اور اسلم اظہر میزبان تھے اور سب سے عمر میں بڑے بھی۔ باقی احباب میں سارے ہی نمایاں اور اہل ذوق یا صاحب فن تھے۔اکثریت قائد اعظم یونیورسٹی کے طلباء کی تھی۔ آذر لقمان کہ ابھی عالم استغراق میں تھے اور مجموعہ کلام بہت بعد میں آیا۔ ثاقب سلطان المحمود آل پاکستان میوزیکل کانفرنس سے گولڈ میڈل اور اپنا ہارمونیم لے کر ایم ایس سی ہسٹری کرنے آگئے تھے اور آنکھوں میں فنکارانہ اضطراب اور ...



This post first appeared on Pak Tea House | Pakistan – Past, Present And Fut, please read the originial post: here

Share the post

مرحوم”اسلم’ بھی تھےاور’اظہر”بھی

×

Subscribe to Pak Tea House | Pakistan – Past, Present And Fut

Get updates delivered right to your inbox!

Thank you for your subscription

×