Get Even More Visitors To Your Blog, Upgrade To A Business Listing >>

پاک فو ج نے آج تک کیا کیا ہے؟

پہاڑ کی چوٹی پر بنی اس پوسٹ(سیاچن) پر مسلسل وقت گزارنا واقعی جان جوکھم کا  کام تھا۔ سردی کی شدت ، تیز ہوا، پانی کی کمی، گھر سے دوری ، تازہ خوراک کی عدم دستیابی، رہائش کا ناقص انتظام، گھر سے رابطے میں مشکلات اور ان جیسے درجنوں مسائل کے ہوتے ہوئے پاک آرمی کے جوانوں کا وہاں وقت گزارنا ہمت و جرات کا ایک نمونہ ہی ہے۔ رہائش کے لیے پتھروں سے بنے ہوئے بینکر جنھیں سیمنٹ اور مٹی وغیرہ کے بغیر ہی ایک دوسرے پر رکھ کر دیوار کی شکل دے دی گئی تھی۔ ان کے سوراخوں سے ہوا کی آمد ایسے ہی جاری رہتی تھی جیسے سوراخ زدہ بوری سے غلہ گرتا رہتا ہے۔ وہ لوگ جو سردیوں میں ہیٹر اور گرمیوں میں اے سی کے سامنے سے ہل جائیں تو انہیں ہسپتال جانا پڑجائے وہ بھی پاک آرمی پر منہ اٹھا کر یوں بکواس کرتے ہیں جیسے بے نیاز درویش پر آوارہ کتے بھونکتے ہیں۔ فوج نے پاکستان کے لیے کیا قربانیاں دی ہیں اور کیا کیا دے رہی ہے یہ بات وہ ایک دم فراموش کر دیتے ہیں۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ ایسے کسی آدمی کو اگر ایک گھنٹا بھر بھی فہیم او پی (مذکورہ پوسٹ) جیسی جگہ پر گزارنا پڑجائے تو وہ اس کی زندگی کا  آخری گھنٹا ثابت ہو گا۔ وہ یہ بات فراموش کر دیتے ہیں کہ ان کی آرام دہ نیندوں کی عمارت کچھ جیالوں کی بے آرامی اور بے سکونی کی بنیاد پر کھڑی ہے۔

ان کے سیر سپاٹے، بے فکری سے گھومنے پھرنے اور آزادی کی زندگی کے پیچھے ان جوانوں کی ہمت کار فرما ہے جو آزاد ہوتے ہوئے قیدی کی سی زندگی گزار رہے ہیں۔ جو بیوی کے ہوتے ہوئے مجرد بنے ہوئے ہیں، جو کبھی اپنے بچوں کی شرارتوں سے دل بھر کے لطف اندوز نہیں ہو پاتے۔ جنھیں بوڑھے ماں باپ کی خدمت کا موقع سال میں چند دن ہی ملتا ہے۔ جو ہمیشہ اپنے گاوں میں مہمان اور اجنبی بنے ہوتے ہیں۔ جو کسی خوشی کے موقع پر وقت پر نہیں پہنچ پاتے، جن کے پیاروں کے جنازے ان کے بغیر پڑھ دیے جاتے ہیں۔

جو کبھی کبھار ایسی حالت میں بھی گھر آتے ہیں کہ ان کا پورا یا ادھورا جسم لکڑی کے صندوق میں بند ہوتا ہے۔ بیٹے کے انتظارمیں راتوں کو جاگنے والی ماں کو بتا دیا جاتا ہے کہ اب تمہارا انتظار اختتام پذیر ہوا ، اب وہ کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا۔ شوہر کی آمد کے لیے نئے کپڑے سلوا کر رکھنے والی بیوی کو بتایا جاتا ہے کہ تمہارے نئے جوڑے کو سراہنے والی آنکھیں باقی نہیں رہیں۔ باپ کی آمد پر نئےکھلونے پانے کے منتظر بچوں کے کانوں میں بس ماں اور دادی کی سسکیاں اور کراہیں ہی گونجتی ہیں اور ایک گھٹیا بے غیرت کہتا ہے پاک فو ج نے آج تک کیا کیا ہے؟

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج اگر پاکستان میں کوئی ایسا ادارہ موجود ہے جس پر پاکستان کے عوام آنکھیں بند کرکے اعتماد کر سکتے ہیں تووہ پاک آرمی ہے۔ البتہ انسان ہونے کے ناطے پاک آرمی کے جوانوں سے غلطی کا ارتکاب ناممکنات میں سے نہیں ہے۔ دہشت گردی کے خلاف مسلسل آپریشن کرنے والوں سے نادانستگی میں خطا ہو جانے کو ان کا  گناہ نہیں گردانا جاسکتا۔ آپ تصور کریں کہ ایک جوان پاک آرمی کی وردی زیب تن کرکے دہشت گردوں کا کھلا ہدف بن کر جب کسی جگہ کا آپریشن کرتا ہے تو وہاں سول کپڑوں میں دکھائی دینے والا ہر آدمی بہ ظاہر نظر اس کا دشمن اور دہشت گرد ہو سکتا ہے۔ ایسے وقت میں اخلاقیات اور نرم خوئی دکھانا ایک سپاہی کیلئے ممکن نہیں رہتا۔

تاریخ گواہ ہے کہ کم فہم لوگوں نے ہمیشہ اپنے ہیروز کی ناقدری کی ہے۔ ایسے لوگ دنیا کو اپنے مطلب کی عینک لگا کر دیکھتے ہیں۔ چور کو کبھی بھی جاگنے والا چوکیدار اچھا نہیں لگتا۔ ایسے لوگ جو پاکستانی ہوتے ہوئے یہود و ہنود کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہوں انہیں پاک آرمی سے کیسے لگاو ہو سکتا ہے۔ بہر حال یہ ایک لمبی بحث ہے۔

ناول  ’’سنائپر‘‘ سے اکتباس

ترتیب: محمدسلیم

پاک آرمی زندہ باد،پاکستان پائندہ باد



This post first appeared on Saleem's Blog - Official, please read the originial post: here

Share the post

پاک فو ج نے آج تک کیا کیا ہے؟

×

Subscribe to Saleem's Blog - Official

Get updates delivered right to your inbox!

Thank you for your subscription

×