Get Even More Visitors To Your Blog, Upgrade To A Business Listing >>

ممکنہ جنگ اور چین بھارت مجبوریاں،بھارتی صحافی روہت شرما کا خصوصی انٹرویو ساؤتھ ایشیا ٹی وی پر

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ساؤتھ ایشیا ٹی وی کو سبکرائیب کریں، ساؤتھ ایشیا ٹی وی میں ہم ساؤتھ ایشیا کے ممالک کے تجزیہ نگاروں کو دعوت دیں گے جس میں وہ اپنی حالات پر رائے دیں گے آج انڈیا سے ہمارے ساتھ بہت بڑا نام روہت شرما موجود ہیں،میں ان سے بھارت اور چین کی ٹینشن جو بڑھ رہی اس کے حوالہ سے بات کروں گا

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے فارن آفس جو کہیں لیکن ٹینشن بڑھ رہی ہے ،انڈیا دنیا بھر سے اسلحہ خرید رہا ہے، مبشر لقمان نے سوال کیا کہ بتایئے ہو کیا رہا ہے انڈیا چائنہ بارڈر پر ، جس کے جواب میں روہت شرما کا کہنا تھا کہ دیکھیں انڈیا ،چائنہ بارڈر ابھی حال میں ایسا ہوا ہے، پچھلے کئی سالوں سے گولی نہیں چلی، اب بھی نہیں چلی، ہمارے سولجر اور چینی سولجر کی موت سے پتہ چل رہا ہے کہ حالات گرم ہیں، دونوں ممالک کے وزیر دفاع آپس میں بات کر رہے ہیں، چائنہ اپنی فوج لا کر بارڈر پر بٹھا رہا ہے،ایک دم آپٹیکل فائبر ایل اے سی پر پہنچ رہا ہے، آپٹیکل فائبر چائنہ ایسی جگہ پر کیوں بچھا رہا ہے؟ وہ کس کی تیاری کر رہا ہے؟ وہ نومبر، دسمبر جنوری جب موسم ٹھنڈا ہو گا تب بھی وہ اپنی ایکٹوٹی دکھا سکے گا، انڈیا نے بھی اس کے جواب میں ایلیٹ فورس لگا رہی ہے بارڈر پر،ساؤتھ چائنہ سی میں بھی ایک شپ ہے،برٹش شپ پہنچنے والے ہیں، دیکھ رہا ہے کہ چائنہ پر پریشر بلڈ ہو رہا ہے،روس نے چائنہ کی ڈلیوری روک دی ہے، اسکے ساتھ ایک بڑی اہم چیز ہوئی ہے ،چائنہ کے جو ارب پتی ہیں انہوں نے سائپرس میں جا کر شہریت لینی شروع کر دی، چائنیز ارب پتی کو سمجھ آ رہا ہے کہ معاملہ سیریس ہوتا جا رہا ہے،ہم محفوظ نہیں ہے، چین کا بزنس ختم ہوتا جا رہے، اس سے پتہ لگتا ہے کہ حالات گرم ہیں، چینی پارٹی بھی تقسیم ہو گئی ہے، ایک صدر کو فیور کرتی ہے تو دوسری انڈیا کو بے شک فیور نہ کرے لیکن وہ کہہ رہی ہے کہ یہ سب ختم کرنا چاہئے، انڈیا انتظار کر رہا ہے، انڈیا کو سپورٹ مل رہی ہے،ا نڈین ڈیفنس منسٹر کی بات چیت ہوئی، انہوں نے تو کچھ نہیں مانا،دکھ رہا ہے کہ مسئلہ دونوں سائیڈ سے ہے

مبشر لقمان نے سوال کیا کہ ان حالات میں ہم یہ مان لیں کہ کچھ دنوں میں جنگ ہو سکتی ہے جس پر روہیت شرما کا کہنا تھا کہ دیکھیں جنگ تو میں بولوں کہ دونوں ممالک جو ہیں، ایک مثال دیتا ہوں، پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف اپنے آفیسر سے چائنہ میں بات کر رہے تھے، اسکی ریکارڈنگ کی گئی، اسکو امریکہ کو دے دیا گیا، وہ امریکہ کو کیوں اور کس نے دیا، وہ چین میں بیٹھے تھے،چائنہ نے ہی کی ہو گی، وہ امریکہ کو دیا گیا انکو پتہ تھا کہ نیوکلیر ہمسائے ہیں ،کچھ گڑ بڑ کریں گے تو ہم پر بھی اثر پڑے گا،امریکہ کو ریکارڈنگ دی کہ یہ دیکھو،تمہارے دو آدمی کیا کر رہے ہٰیں جب وہ انڈیا اور پاکستان کے بیچ میں ایک وار نہیں چاہ رہا تھا، اب وہ کیا چاہے گا کہ چین اور انڈیا کے مابین جنگ ہو، دونوں نیو کلیئر پاور ہیں، دونوں کے پاس ہتھیار ہیں، انڈیا کے پاس بھی، چین کے پاس بھی، ڈلیوری کیپسٹی دونوں کے ہاتھ میں، دونوں کے میزائل ایک دوسرے کو ٹچ کرتے ہیں، چائنہ رسک نہیں لینا چاہے گا، وہ پریشر بڑھا رہا ہے،اپنی انٹرنل سیاست کی وجہ سے وہ ایسا کر رہا ہے، 62 میں بھی ایسا ہوا تھا، اس سے آگے کچھ ہونے کا امکان بہت کم ہے ،جب ارب پتی جانا شروع ہو جائیں تو چائنہ کی اکانومی بھی تباہ ہو گی، اگلے تین سال میں کچھ ہونے والا ہے چین کے اندر اسکے انڈیگیشن سامنے آ رہے ہیں،چینی صدر پورا کنٹرول میں آ جائیں گے، انکی انٹرنل پولٹیکش جو پتہ چل رہی ہے

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ کی بات مان لیتے ہیں،کہ انٹرنل پولٹکس کا مسئلہ ہے تو اسکو ختم کرنے کے لئے سب سے آسان طریقہ ہے کہ ایکسٹرنل شروع کر دو وہ تو آئیں گے پھر لڑائی ہو گی، جس پر روہیت شرما کا کہنا تھا کہ یہ تب ہوتا ہے جب مین پاور ایک جگہ ہو، دیکھنا یہ بھی ضروری ہے کہ کیا انڈیا اس طرح جواب دے گا جس طرح 62 میں دیا تھا، انڈیا نے ایئر فورس استعمال نہیں کی تھی،اگر ایئر فورس استعمال کی ہوتی تو جنگ جیت جاتے اور اگر نہیں بھی جیتے تو چینی کو واپس دھکیل دیتے، جس طرح ویت نام نے چائنہ کو مارا تھا گندہ،

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جنگ دو ملکوں کو نہیں ریجن کو لپیٹ میں لیتی ہے،اسکا اکانومی پر اچھا اثر نہیں ہوتا، کیا 2020 میں کوئی ملک سپورٹ کر سکتا ہے کہ جنگ کرے جس پر روہیت شرما نے کہا کہ 2020 میں کوئی ملک جنگ افورٹ نہیں کر سکتا مگر جنگ لڑنی پڑی تو ملک لڑیں گے، جو انفراسٹرکچر ہے،ایسٹ ویلی ویسٹ ویلی کو ملانے والے پل ٹوٹ گئے، اسکا مطلب انفراسٹرکچر گیا،اسکو دوسرے ملک کے لوگ ٹارگٹ کرتے ہیں،اگر یہ ریجنل وار بنی تو پاکستان بھی ہولڈ آن ہو گا، پاکستان کے بزنس انٹرسٹ، سی پی ای سی سے لنک، اس پر اٹیک ہو گا ہی ہو اور پاکستان کو بھی گھسنا ہو گا،

مبشر لقمان نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان پر انڈیا حملہ کرے گا اور پاکستان جواب دے گا؟ جس کے جواب میں روہیت شرما نے کہا کہ دیکھیں وار کون کرتا ہے کون نہیں کرتا، سی پیک ٹارگٹ آئے گا، اسکی گارنٹی لے لیں، اسکے ذریعے وہ اسلحہ موو کرے گا،سی پیک اور ہما چل وادی سے چین گھسنے کی کوشش کرے گا،تبت کی طرف سے اٹیک کرنا آسان نہیں ہو گا، پلین موومنٹ آسان ہے، ہو سکتا ہے کہ چاینہ کوشش کرے کہ سی پیک روڈ کے تھرو آ کر گھسنے کی کوشش کرے، پاکستان منع کر پائے گا یا نہیں، دونوں ملکوں میں اچھی دوستی ہے

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میرے پاس ایک ان کنفرم نیوز ہے،میری سورس بہت اچھی ہے، وہ بتاتے ہیں کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کھولا گیا تھا امریکہ کے کہنے پر انڈیا کے لئے،افغانستان سے جتنے کینٹینر آ رہے ہیں قندھار سے چلتے ہوئے لاہور سے امرتسر تک جاتے ہیں، واپس کوئی چیز نہیں جا رہے، یہ کہا جا رہا ہے کہ ان کینٹینر میں امریکہ اسلحہ ہے جو بھارت کو بھجوایا جا رہا ہے پاکستان کے راستے، جس پر روپیت شرما کا کہنا تھا کہ میرے پاس ایسی کوئی خبر نہیں میرے پاس ابھی تک،اگر ایسے کینٹینر آئیں گے تو بھی بائی روڈ آنے سے زیادہ بائی ایئر لانا آسان نہیں؟ جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بائی ایئر بہت مہنگا پڑتا ہے، روہیت شرما کا کہنا تھا کہ جنگ کی صورت میں قیمت نہیں دیکھی جاتی، ڈیفنس سیکرٹ ہوتا ہے،ہمارے ہاں بھی ڈیفنس سیکرٹ ہے، کونسا سامان کتنے کا ملتا ہے ہم رافیل خرید رہے ہیں اسکی کاسٹ کیا ہے نہیں پتہ، لوہا ہے ،بلین کی اس کی کاسٹ ہے، جب ایک چیز پانچ چھ کروڑ کی ہو گی،دس بیس کروڑ کی ہو گی کو بلین آف ڈالر میں لے رہے ہیں تو اپنی سیکورٹی کے لئے سامان نہیں لا سکتے،

مبشر لقمان نے سوال کیا کہ اب مجھے یہ بتائیے گا کہ آپکے تجزیئے کے مطابق ریجن میں کنفلیکٹ ہونے والا ہے یا نہیں جس پر روہیت شرما کا کہنا تھا کہ ابھی تک نہیں، چین کے پاس پیسہ بہت زیادہ ہے،انڈیا سے بڑی اکانومی ہے، لیکن چائنہ کی سپلائی لائن کو بلاک کرنے میں وہ انکی نیوی بیٹھی ہیں وہ ساؤتھ سی میں بیٹھی ہیں،تیل کے بغیر کوئی جنگ نہیں لڑی جاتی، ساؤتھ سی کو بلاک کر دیا گیا جس پر مبشر لقمان نے کہا کہ انہوں نے چار سال کا تیل اکٹھا کر لیا پچھلے چھ ماہ میں، روہیت شرما کا کہنا تھا کہ تیل بہت ہے لیکن جب جنگ ہوتی ہے تو تیل پانی کی طرغ غائب ہوتا ہے، جب تیل سپلائی بند ہو گی تو وہ تیل جانا بند ہو گا، اکانومی بھی بند ہو گی، جس پر مبشر لقمان نے کہا کہ تیل گوادر سے ہم دے دیں گے، کوئی ایشو نہیں، روہت شرما کا کہنا تھا کہ یہ آپ نے اچھی بات کی، میں نے اسی لئے کہا تھا کہ جب بھی جنگ ہو گی سی پیک ٹارگٹ ضرور ہو گا کیونکہ تیل وہیں سے جائے گا، اگر سی پیک کے دو برج توڑ دیئے تو بننے میں چھ ماہ لگ جائیں گے.

مبشر لقمان نے کہا کہ جب آپ سی پیک کے برج توڑ رہے ہوں گے تو کیا ہم کرکٹ کھیل رہے ہوں گے،ٹونٹی ٹونٹی کھیل رہے ہوں گے؟ جس پر روہت شرما کا کہنا تھا کہ آپ کرکٹ نہیں کھیل رہے ہوں گے، آپ بھی تیاری کر رہے ہوں گے، آپ یہاں برج توڑ سکتے ہیں لیکن کیا اپنے برج بچا پائیں گے مجھے اس پر شک ہے، ایک میزائل یہاں سے چلا تو وہ 15 منٹ میں ٹارگٹ کرے گا،اسکو نہیں روک سکتے ، بالا کوٹ میں جو ہوا تھا اس میں بھی کہا گیا تھا کہ 20 منٹ کا ایکشن ٹائم ہے لیکن 10 منٹ میں آپریشن ختم ہونا ہے

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بالا کوٹ مختلف ہے، انہوں نے پلین کیا ہوا تھا کہ ابھی ری ایکٹ نہیں کرنا بعد میں کرنا ہے، اس سائڈ کی سٹوری آپ نے نہیں سنی، کبھی اس پر بھی بات کر لیں گے، کبھی آپ نے سوچا کہ انڈیا اور پاکستان کافی ایریاز میں ایونلی میچڈ ہیں، ہماری فوجی کی وہی ٹریننگ ہے، ٹیکنکلی بھی سب کچھ ایک ہے، چائنہ اور آپ میں بہت فرق آ جاتا ہے زمین آسمان کا، ٹیکنالوجی،لوجسٹک، اکانومی میں، جس پر روہیت شرما کا کہنا تھا کہ یہ دونوں کے لئے ایزی ٹاسک نہیں ہے، انڈیا لوجسٹکلی پیچھے ہو گا، لیکن جب آپ کو لڑائی کرنی ہے توتبت میں آکر انڈیا میں گھسنا پڑے گا، تبت میں آ کر آپ ایک پلاٹو میں لڑیں گے وہاں پلین ٹیک آف کریں گے، لوجسٹک سپورٹ آپکے لئے پرابلم ہے، انڈیا کے لئے سب کچھ بنا ہوا ہے، یہ لڑائی جتنی زیادہ لمبی ہو گی اتنا چائنہ مشکل میں آئے گا،اگر سی پیک کو تارگٹ کیا گیا اور چائنہ کے جو برجز بنے ہیں جو تبت کے ہائی لینڈ کو جوڑتے ہیں تو انکو بنانے کے لئے 6 مہینے لگیں گے

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مسئلہ ایک اور ہے، میرے اور آپ کے بیچ، ہماری دوستی اپنی جگہ لیکن میں ہوں تو پاکستانی، پاکستانی ہو کر پاکستانی چٹکی نہ کاٹے تو کھانا ہضم نہیں ہو گا،آپ نے چکن نیک کا نام تو سنا ہے، وہاں کتنی انہوں نے ڈپلائمنٹ کر دی، وہاں ٹوٹل کٹ آف کر رہے ہیں ارونا چل پردیش میں ایک موومنٹ کا بھی آپکو سامنا ہے، چین نے کہہ دیا کہ یہ ہمارا علاقہ ہے جس پر روہیت شرما کا کہنا تھا کہ چکن نیک میں انڈین ڈپلائمنٹ بھی ہے، وہ ایک چھوٹا سا سٹیٹ ہے جس کی وجہ سے وہ چکن نیک بنتا ہے، اسکے چاروں اطراف نیپال، بنگلہ دیش، بھوٹان ہیں، مبشر لقمان نے کہا کہ نیپال ، بھوٹان بھی آپ کی مدد نہیں کریں گے، اسوقت دنیا میں پیسہ چلتا ہے جو مرضی آپ کریں ،چائنہ بہت پیسہ لگا رہا ہے، آپ نے جو باتیں کیں میں چین سے بھی کسی دوست کو لوں گا اور یہی سوال کروں‌ گا، نیپال اور بھوٹان سے بھی دوست لے کر آؤں گا انکا موقف بھی لیں گے.

The post ممکنہ جنگ اور چین بھارت مجبوریاں،بھارتی صحافی روہت شرما کا خصوصی انٹرویو ساؤتھ ایشیا ٹی وی پر appeared first on Baaghi TV.



This post first appeared on Baaghi TV, please read the originial post: here

Share the post

ممکنہ جنگ اور چین بھارت مجبوریاں،بھارتی صحافی روہت شرما کا خصوصی انٹرویو ساؤتھ ایشیا ٹی وی پر

×

Subscribe to Baaghi Tv

Get updates delivered right to your inbox!

Thank you for your subscription

×