واشنگٹن: وہ دن دور نہیں جب جامد بازوؤں (فکسڈ ونگز) والے طیارے ماضی کا قصہ بن جائیں گے کیونکہ ناسا نے دورانِ پرواز بازو سکیڑنے والے طیارے کی آزمائش کی ہے اور ان طیاروں پر تحقیق کو ’اسپین وائز ایڈاپٹیو ونگز‘ (ایس ڈبلیو اے)  ٹیکنالوجی کا نام دیا گیا ہے۔

ناسا کے انجینئروں کے مطابق بازو کی ساخت تبدیل کرنے والے طیارے، جامد (فکس) بازو والے طیاروں کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتار ثابت ہوسکتے ہیں تاہم یہ تصور بالکل نیا بھی نہیں۔

قبل ازیں ایس بی 70  ویکیری طیارے بھی اپنے بازو سکیڑ سکتے تھے اور اب ناسا اس پر کام کررہا ہے۔ ماضی میں ہائیڈرولک نظاموں کے ذریعے ہوائی جہازوں کے ونگز کو بدلا گیا لیکن اب ناسا اس کےلیے دیگر اہم ٹیکنالوجیز استعمال کررہا ہے۔

اس کےلیے ناسا نے ایسی دھاتی بھرت استعمال کی ہے جسے ’شیپ میموری الائے‘ کہا جاتا ہے۔ زیادہ درجہ حرارت پر یہ دھاتیں اپنی شکل بدل لیتی ہیں۔ ناسا نے اس کےلیے تھرمل میموری ٹیوب کا تصورپیش کیا ہے جو ایک مضبوط آنکڑے (ایکچویٹر) کو حرکت دیتی ہے۔

ایس ڈبلیو اے ٹیکنالوجی کے ماہر عثمان بنافن نے بتایا کہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ پرواز کے دوران بازو گھمانے، ان کا رُخ بدلنے اور دیگر امور سے طیارے کی پرواز میں کیا کچھ فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔

ناسا کے ماہرین نے فی الحال اس ٹیکنالوجی کو ایک چھوٹے طیارے پر آزمایا ہے اور اس پر کئی تحقیقات جاری ہیں لیکن اس ٹیکنالوجی کے بہت سے فوائد ہیں۔ ایک جانب تو اس سے روایتی طیاروں کے پرانے نظام کے مقابلے میں وزن کو 80 فیصد تک کم کرنا ممکن ہے۔ وزن کم کرنے سے سپرسانک فلائٹ (آواز سے تیز رفتار پرواز) کو ممکن بنانا آسان ہوتا ہے۔ بازو کی ساخت بدلنے والے طیارے بہت تیزی سے پینترا بدلنے اور پھرتیلے بننے پر قادر ہوسکتے ہیں۔

ناسا کے ایک اور ماہر میٹ موہولٹ کے مطابق ہوائی جہاز کے بازوؤں کے کناروں کو ضرورت کے تحت نیچے کی جانب موڑنے سے ہوا کی رگڑ کم ہوجاتی ہے اور یوں طیارہ تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ اس سے آواز سے کئی گنا تیز رفتار طیارے بنائے جاسکتے ہیں۔

ناسا ماہرین کے مطابق اس تحقیق سے مستقبل کے سپرسونک طیاروں کی نئی اور جدید نسل ہمارے سامنے آئے گی۔