Get Even More Visitors To Your Blog, Upgrade To A Business Listing >>

دھرنا ختم نہ کروانے پر اعلیٰ حکام کو توہین عدالت کا نوٹس

دھرنا ختم نہ کروانے پر اعلیٰ حکام کو توہین عدالت کا نوٹس

 وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ دھرنے کے پرامن حل کے لیے حکومت کو مزید مہلت دے تاہم عدالتی حکم نہ ماننے پر سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد اور پولیس کے سربراہ کو توہین عدالت کے مقدمے میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

دھرنا دینے والی مرکزی جماعت لبیک یا رسول اللہ کے مطابق حکومت نے ایک مرتبہ پھر انھیں مذاکرات کے لیے پیغام دیا ہے۔

پیر کو عدالت میں پیشی کے موقع پر وزیرداخلہ احسن اقبال نے پریس کانفرنس میں دھرنا ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا کہ آپریشن اس مسئلے کا آخری حل ہو گا۔

انھوں نے بتایا کہ عدالت سے مزید مہلت طلب کی گئی ہے اور امید ہے کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران پرامن حل نکل آئے گا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیض آباد پر احتجاجی دھرنا ختم کروانے سے متعلق عدالتی حکم نہ ماننے پر سیکرٹری داخلہ، اسلام آباد کی چیف کمشنر اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو توہین عدالت کے مقدمے میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس درخواست کی سماعت کے دوران وزیر داخلہ احسن اقبال کی مذید دو روز کی مہلت دینے کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عالیہ کا 17 نومبر کو فیصلہ اپنی جگہ برقرار ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور وفاقی وزیر داخلہ کے درمیان مکالمہ بھی ہوا جس میں بینچ کے سربراہ نے وزیر داخلہ سے استفسار کیا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے میں بےبس ہیں جس پر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ‘جسٹس صاحب اس بارے میں ہم سے زیادہ باخبر ہیں۔ ‘

اُنھوں نے کہا کہ لبیک یا رسول اللہ نامی سیاسی جماعت نے حالیہ ضمنی انتخابات میں حصہ لیا اور خدشتہ یہ ہے کہ یہ دھرنا اگلے عام انتخابات کے لیے ہے۔

جسٹس شوکت عزیز نے وزیر داخلہ سے استفسار کیا کہ کیا اُنھوں نے علماء اور مشائخ کا اجلاس عدالتی حکم کی روشنی میں بلایا ہے ۔ عدالت نے وزیر داخلہ سے کہا کہ وہ تمام بوجھ عدالت پر مت ڈالیں جس پر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ یہ معاملہ افہام وتفیم سے حل ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو دھرنا دینے والی جماعت نے لاہور سے نکلتے وقت یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ دھرنا نہیں دیں گے۔

جسٹس شوکت عزیز نے پدھرنے سے متعلق دو درخواستوں کی سماعت کے آغاز پر اپنے ریمارکس میں کہا کہ دھرنا ختم نہ ہونا ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت اور نااہلی کا نتیجہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ مظاہرین کے مطالبات کیا ہیں انھیں عدالتی حکم پر عملدرآمد کرنا چاہیے۔‘

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ’چار پانچ افراد ہزار افراد لاکھوں افراد کے حقوق سلب نہیں کر سکتے۔ ان مریضوں، طالبعلموں اور مریضوں کا کیا قصور ہے جو ان چند ہزار افراد کے مظاہرے کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں۔‘

دھرنا٫
سماعت کے موقع پر عدالت کے سامنے ڈپٹی اٹارنی جنرل پیش ہوئے انھوں نے کہا کہ ’بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو کھلی عدالت میں نہیں بتائی جا سکتیں۔‘

اس کے جواب میں جسٹس شوکت نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’مجھےمعلوم ہے کہ آپ نے یہی کہنا ہے کہ ان کے پاس پتھر اور اسلحہ ہے۔‘

عدالت کا کہنا ہے کہ اگر عدالتی احکامات کو اسی طرح نظر انداز کیا جاتا تو حکومت کی عملداری کو بھی خطرہ ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر کام نہیں ہوتا تو ایک ہی مرتبہ قوم سے خطاب کریں اور کہیں ہمیں کام نہیں کرنے دیا جا رہا۔‘

ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ حکومت خود اس معاملے میں مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔

The post دھرنا ختم نہ کروانے پر اعلیٰ حکام کو توہین عدالت کا نوٹس appeared first on ماہنامہ میرے محسن.



This post first appeared on Islamic Society Magazine | Islamic Magazine Around The Family, please read the originial post: here

Share the post

دھرنا ختم نہ کروانے پر اعلیٰ حکام کو توہین عدالت کا نوٹس

×

Subscribe to Islamic Society Magazine | Islamic Magazine Around The Family

Get updates delivered right to your inbox!

Thank you for your subscription

×