Get Even More Visitors To Your Blog, Upgrade To A Business Listing >>

پاکستان کا امریکی سرد مہری کا جواب

نئی منتخب حکومت نے امریکہ کی طرف سے تعلقات میں سرد مہری کا جواب سرد مہری سے دیا۔ سپر طاقت کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو جب ستائیس رکنی وفد کے ہمراہ پاکستان کے مختصر دورے پر پہنچے تو پاک امریکہ کشیدہ تعلقات کے باعث پاکستان نےواضح پیغام دینے کے لئے امریکی وزیر خارجہ کا شایان شان استقبال نہیں کیا۔ کسی وزیر یا حکومتی شخصیت کی بجائے وزارت خارجہ کے ایک افسر نے نور خان ائیربیس پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا استقبال کیا۔ وزیر اعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اپنے وفد کے ہمراہ نئی دہلی چلے گئے۔ جہاں ان کا استقبال بھارتی وزیرخارجہ شسماسوراج نے کیا.

ادھر ذمہ دار ذرائع کےمطابق امریکا کی طرف سے سرد مہری اور بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات امریکی امداد کی بندش کے بعد پاکستان نے روس سے بھی رجوع کر لیا اور ایران کے ساتھ بھی تعلقات کو بہتر بنا لیا جو امریکا کے ساتھ دوستی کی وجہ سے متاثر تھے۔ پاکستان حکومت نے جرات مندانہ اقدامات کرتے ہوئے امریکا اور ایران کی کشیدگی میں ایران کے موقف کی تائید کی یہی وجہ ہے کہ ایران بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے میں آمادہ ہو گیا۔ پاکستان کے اعلیٰ سطحی فوجی اور سول حکام کے مسلسل روس کے دوروں اور روس کے ساتھ دفاعی شعبے میں تعاون سے امریکی حکام پریشان ہو گئے کیونکہ اس وقت چین، روس ،ایران کا بلاک بن سکتا ہے اور اس میں افغا نستا ن بھی شامل ہو سکتا ہے۔ ان خطرات کو مد نظر رکھتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ فوری طور پر دورہ پاکستان آئے۔ اس دورے میں امریکہ نے کوئی سخت لہجہ اختیار نہیں کیا۔
 



This post first appeared on All About Pakistan, please read the originial post: here

Share the post

پاکستان کا امریکی سرد مہری کا جواب

×

Subscribe to All About Pakistan

Get updates delivered right to your inbox!

Thank you for your subscription

×