Get Even More Visitors To Your Blog, Upgrade To A Business Listing >>

روپے کی قدر میں کمی ۔ حقائق ، توقعات وخدشات : ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں زبردست کمی اسٹیٹ بینک نے ایک حکمت عملی کے تحت ایک ایسے وقت ہونے دی ہے جب آئی ایم ایف کا وفد پاکستان میں موجود تھا۔ اسٹیٹ بینک نے 8 دسمبر 2017 کے پریس ریلیز میں کہا ہے کہ جاری کھاتے کے خسارے کے بڑھنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کم ہونے کی وجہ سے روپے کی قدر گری ہے۔ یہ بات نوٹ کرنا اہم ہے کہ پاکستانی درآمدات تو 2016-17 سے بڑھنا شروع ہوئی تھیں مگر برآمدات 2014-15 سے تسلسل سے گرتی آرہی تھیں۔ برآمدات گرنے کی ایک اہم وجہ یہ بھی تھی کہ قرضہ لینے کے لئے پاکستان نے 19 اگست 2013 کو آئی ایم ایف کی یہ تباہ کن شرط منظور کی تھی کہ تین برسوں تک بجلی وگیس کے نرخ بڑھائے جاتے رہیں گے۔

اس اضافے سے صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھنا بھی برآمدات میں کمی کا ایک سبب رہا ہے۔ بجلی و گیس کے نرخ بڑھاتے چلے جانے کو عملاً چاروں صوبوں کی حمایت حاصل تھی کیونکہ وہ بھی ہر قسم کی آمدنی پر موثر طور پر ٹیکس عائد کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہیں موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف سے یہ قرضہ بنیادی طور پر اس لئے حاصل کیا تھا کہ 26 ستمبر 2008 کو فرینڈر آف پاکستان گروپ کے ساتھ کئے گئے سودے کے تحت آئی ایم ایف سے ملنے والے قرضے کو واپس کیا جا سکے۔ ہم ان ہی کالموں میں کہتے رہے ہیں کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک عظیم دھوکہ تھا۔ اب یہ خدشہ نظر آرہا ہے کہ اگلی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد 2013 کے قرضے کی ناروا شرائط اور ناقص معاشی پالیسیوں کی وجہ سے تباہ حال معیشت کو سنبھالا دینے کے نام پر ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف سے نئے قرضے کے حصول کے لئے دست سوال دراز کرے گی جو تباہ کن معاشی شرائط پر امریکہ کی سفارش سے ملے گا جو ’’مزید اور کرو‘‘ کے نام پر نت نئی سیاسی شرائط عائد کرے گا۔

اسٹیٹ بینک نے اپنے 8 دسمبر 2017 کی پریس ریلیز میں کہا ہے کہ روپے کی قدر میں یہ کمی بیرونی کھاتے میں عدم توازن کو روکے گی۔ یہ سوچ غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ موجودہ پالیسیوں کے تناظر میں روپے کی قدر میں حالیہ زبردست کمی کے باوجود بیرونی جاری کھاتے کے خسارے کو مزید بڑھنے سے روکا نہیں جا سکے گا البتہ اس کمی سے بیرونی قرضوں کا ملکی کرنسی میں حجم بڑھا ہے درآمدنی اشیا بشمول پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں، مہنگائی اور شرح سود میں اضافہ ہو گا جبکہ بجٹ خسارہ بھی بڑھے گا۔ اسٹیٹ بینک کے پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جولائی سے اکتوبر 2017 کے 4 ماہ میں برآمدات اور بیرونی براہ راست سرمایہ کاری میں زبردست اضافہ ہوا مگر درآمدات میں مسلسل بھاری اضافے سے جاری کھاتے کا خسارہ بڑھ گیا اور زرمبادلہ کے ذخائر سے رقوم نکلیں اور یہ دبائو برقرار ہیں چنانچہ روپے کی قدر میں کمی ہوئی ہے۔ یہ حقیقت بحر حال اپنی جگہ برقرار ہے کہ اس پریس ریلیز سے صرف تین روز قبل انٹر نیشنل بانڈز کی نیلامی سے اسٹیٹ بینک کو 2.5 ارب ڈالر ملے چنانچہ 7 دسمبر 2017 کو اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے تھے۔

مالی سال 2015-16 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 22.6 ارب ڈالر تھا جو 2016-17 میں بڑھ کر 32.5 ارب ڈالر ہو گیا۔ اسی مدت میں جاری کھاتے کا خسارہ 3.3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 12.1 ارب ڈالر ہو گیا اکتوبر 2016 سے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی کمی ہونا شروع ہو گئی تھی لیکن حکومت اور اسٹیٹ بینک نے صورت حال کی سنگینی کو عملاً نظر انداز ہی کیا۔ یہ بات دلچسپی سے پڑھی جائے گی کہ اکتوبر2016 سے نومبر 2017 تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 6.2 ارب ڈالر کی کمی ہوئی تھی مگر مئی2017 سے نومبر 2017 کے 6 ماہ میں بینکوں کے بیرونی کرنسی کے ڈپازٹس بڑھنے سے بینکوں کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 1.3 ارب ڈالر کا زبردست اضافہ ہوا جو کہ روپے کی قدر میں کمی کی توقعات کے پیش نظر سٹے بازی کے رحجان کا عکاس ہے۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ اب سے7 ماہ قبل 5 جولائی 2017 کو انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی شرح مبادلہ 104.90 سے بڑھ کر 108.25 روپے ہو گئی تھی۔

اسٹیٹ بینک نے اسی روز اپنے پالیسی بیان میں اس کمی کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ نئی شرح مبادلہ معیشت کے معاشی اشاریوں سے بڑی حد تک ہم آہنگ ہے۔ اس وقت کے وزیر خزانہ اسحق ڈار نے اس کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مصنوعی قرار دیا تھا۔ اس اعلان کے بعد اسٹیٹ بینک نے اپنی خود مختاری پر سمجھوتہ کر کے روپے کی قدر میں جزوی بہتری کرا دی۔ ’’روپے کی قدر میں کمی، پراسراریت اور اعتماد کا فقدان‘‘ کے عنوان سے اپنے کالم میں ہم نے لکھا تھا کہ ’’اسٹیٹ بینک اور وزیر خزانہ کے متضاد بیانات اور وزیر خزانہ کے سخت بیان کے فوراً بعد روپے کی قدر میں جزوی بہتری سے اس معاملے کی پراسراریت میں اضافہ ہو گیا ہے، اسٹیٹ بینک کی ساکھ مجروح ہوئی ہے‘‘۔ ہم نے اس کالم میں یہ بھی عرض کیا تھا کہ ’’روپے کی قدر میں اچانک کمی کروا کر کچھ اداروں اور اشخاص نے خوب ناجائز فائدہ اٹھایا ہے (جنگ 13جولائی2017) یہ سلسلہ اب پھر شروع ہو گیا ہے۔

یہ بات حیرت سے پڑھی جائے گی کہ 8 دسمبر 2017 کو روپے کی قدر میں کمی کروانے سے صرف دوہفتے پہلے اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی کے 24 نومبر 2017 کے پالیسی بیان میں کہا گیا تھا کہ برآمدات میں اضافے کی شرح میں بہتری آنے اور بیرونی براہ راست سرمایہ کاری میں واضح اضافے وغیرہ کی وجہ سے توازن ادائیگی کے خسارے کے دبائو کو قابو میں رکھنے میں مدد ملے گی مگر صرف دو ہفتے کے اندر روپے کی قدر گرانے کے لئے اسٹیٹ بینک نے اپنا موقف تبدیل کر لیا۔ اس صورت حال کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک اور اس کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی ساکھ بھی مجروح ہوئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اکتوبر2016 کے بعد جو اقدامات اٹھانا ضروری تھے ان میں چند یہ ہیں:

1۔ مانیٹری پالیسی کو زمینی حقائق اور حکومت کی مالیاتی پالیسی سے ہم آہنگ کرنا۔

2۔ اسٹیٹ بینک کا درآمدات کنٹرول کرنے اور شعبہ بینکاری میں بہتری کے لئے اصلاحات کرنا اور 3۔ وفاق اور صوبوں کا معیشت کو بہتر بنانے، درآمدات کو کنٹرول کرنے (حکومتی شعبے میں) اور برآمدات میں تیزی سے اضافہ کرنے کے لئے اسٹرکچرل اصلاحات کرنا۔

بدقسمتی سے طاقتور طبقوں کے ناجائز مفادات کےتحفظ کے لئے یہ اقدامات نہ پہلے اٹھائے گئے اور نہ اب اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہی نہیں، پست سیاسی مفادات کے حصول کے لئے خصوصی طور پر گزشتہ چند ہفتوں میں سیاسی افراتفری اور احتجاجی کلچر کو فروغ دیا گیا ہے حالانکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ تمام متعلقہ فریق ملک کو خطرات سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کرتے ۔ اس صورت حال میں سٹے بازی سے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بھاپ کی طرح اڑ سکتے ہیں۔ ہم نے اپنے20 اکتوبر 2017 کے کالم میں کہا تھا کہ اقتصادی دہشت گردی پر مبنی معاشی پالیسیوں کو خیرباد کہہ کر ہماری سفارشات کو نیشنل ایکشن پلان کا حصہ بنایا جائے۔ اب ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ اس سے قبل آل پارٹیز کا نفرنس بلاکر ان تجاویز کی منظوری حاصل کی جائے۔

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی
 



This post first appeared on All About Pakistan, please read the originial post: here

Share the post

روپے کی قدر میں کمی ۔ حقائق ، توقعات وخدشات : ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

×

Subscribe to All About Pakistan

Get updates delivered right to your inbox!

Thank you for your subscription

×