Get Even More Visitors To Your Blog, Upgrade To A Business Listing >>

کیا اٹھائیس سال بعد 'ایس ایم ایس' کا عہد ختم ہو گیا ؟

دنیا بھر میں فیس بک کی زیرملکیت ایپلیکشن واٹس ایپ کو ماہانہ ڈیڑھ ارب سے زائد افراد اپنے پیاروں سے رابطے کے لیے استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس میں میسجز بھیجنا مفت ہے اور بس انٹرنیٹ درکار ہوتا ہے۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ واٹس ایپ کو اپنے سب سے بڑے حریف کا سامنا ہونے والا ہے کیونکہ گوگل نے اینڈرائیڈ فونز میں ٹیکسٹ میسجز کو لگ بھگ واٹس ایپ جتنا ہی بہتر بنا دیا ہے۔ گوگل میسجز بنیادی طور پر اس کمپنی کے رچ کمیونیکشن سروس (آر سی ایس) کا حصہ ہے جس پر 2016 سے کام ہو رہا ہے اور یہ ایس ایم ایس یا شارٹ میسج سروس کی جگہ لے گا جس کو 25 سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے جبکہ صارفین اس پر وائی فائی پر چیٹ، ہائی ریزولوشن تصاویر اور ویڈیوز بھیجنے اور موصول کرنے کی سہولت، ریڈ رسیپٹ، ٹائپنگ انڈیکٹرز گروپ چیٹ اور گروپ چیٹس میں لوگوں کو ایڈ یا نکالنے جیسے فیچرز استعمال کر سکیں گے۔
 
دو سال کی کوششوں کے بعد آخرکار گوگل نے دنیا بھر کے اینڈرائیڈ صارفین (چین اور روس کو نکال کر) کو ایس ایم ایس کے اس متبادل تک رسائی فراہم کرنا شروع کر دی ہے۔ اب موبائل کمپنیوں کی بجائے گوگل کی جانب سے براہ راست آر سی ایس چیٹ سروسز اینڈرائیڈ میسجز ایپ کے ذریعے فراہم کی جائیں گی، جس کے بس اس اپلیکیشن کو انسٹال کر کے اسے ڈیفالٹ ٹیکسٹ ایپ کی جگہ استعمال کرنا ہو گا۔ آر سی ایس کو گوگل نے گزشتہ سال برطانیہ، فرانس اور امریکا میں متعارف کرایا تھا اور گوگل کی جانب سے اب اس میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے اضافے کے لیے کام شروع کر دیا گیا ہے۔ فی الحال یہ سہولت بیٹا ورژن استعمال کرنے والے صارفین کو دستیاب ہو گی مگر بتدریج یہ بائی ڈیفالٹ ون آن ون چیٹ کا حصہ بن جائے گی، جس کے بعد موبائل کیرئیرز یا گوگل کوئی بھی میسجز کا مواد پڑھنے کے قابل نہیں رہے گا۔

گزشتہ سال گوگل کی پراڈکٹ منیجمنٹ ڈائریکٹرسانز آہاری نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے حوالے سے ہمیں تیکنیکی پیچیدگیوں کا سامنا ہے، کیونکہ ہمیں شراکت داروں کے قانونی اور پالیسی معاملات کو بھی دیکھنا ہے۔ انہوں نے آر سی ایس کے حوالے سے کہا کہ یہ اپ ڈیٹ بہت عرصے پہلے آجانی چاہیے تھی، کیونکہ اس وقت اینڈرائیڈ سسٹم میں ایس ایم ایس پروٹوکول میں صارفین کو جدید فیچرز دسیتاب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ موجودہ عہد کے تقاضوں کے مطابق کام کرنے والے فیچرز ہیں، یہ درست سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ دنیا بھر میں موبائل کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری میں مشکلات کے بعد گزشتہ سال گوگل نے یہ معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا اور مختلف ممالک میں بتدریج آر سی ایس سروسز کو براہ راست فراہم کرنا شروع کیا اور اس کے لیے مقامی موبائل کمپنیوں کا انتظار نہیں کیا گیا۔

اب گوگل نے اعلان کیا ہے کہ یہ عمل مکمل ہو گیا ہے اور اب دنیا بھر میں آر سی ایس سروسز اینڈرائیڈ میسجز کے ذریعے ہر ایک کو دستیاب ہے۔ یعنی اب کہا جاسکتا ہے کہ آخرکار ایس ایم ایس کا عہد گوگل کے اس قدم کے بعد ختم ہو گیا ہے اور مستقبل قریب میں اس سروس کے تحت بھیجے جانے والے پیغامات بھی دیگر کی رسائی سے دور ہوں گے جو اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کی مہربانی ہو گی۔ تاہم اینڈ ٹو ایینڈ انکرپٹ میسجز کا فیچر کب تک تمام صارفین کو دستیاب ہو گا، یہ ابھی کہنا مشکل ہے۔ کمپنی کے مطابق اگر کوئی صارف کسی ایسے فرد کو میسج بھیجتا ہے جو اینڈرائیڈ میسجز کو استعمال نہیں کر رہا تو بھی سروس کام کرے گی مگر ایڈوانس فیچرز یا اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کام نہیں کریں گے۔ خیال رہے کہ دنیا کا پہلا ایس ایم ایس 3 دسمبر 1992 کو بھیجا گیا تھا۔ یہ ایس ایم ایس برطانیہ کی ایک ٹیلی کام کمپنی سیما گروپ کے 22 سالہ ملازم نیل پاپورتھ نے کرسمس پارٹی میں مصروف کمپنی کے ڈائریکٹر رچرڈ دیرواس کو ارسال کیا تھا۔ ایس ایم ایس 160 حروف کی وہ سروس ہے جس کو 28 سال ہو گئے ہیں مگر آج کے فونز زیادہ طاقتور اور صارف زیادہ فیچرز مانگتے ہیں اور یہی چیز واٹس ایپ اور میسنجر کی کامیابی کا باعث بنی۔

بشکریہ ڈان نیوز




This post first appeared on MY Pakistan, please read the originial post: here

Share the post

کیا اٹھائیس سال بعد 'ایس ایم ایس' کا عہد ختم ہو گیا ؟

×

Subscribe to My Pakistan

Get updates delivered right to your inbox!

Thank you for your subscription

×