Get Even More Visitors To Your Blog, Upgrade To A Business Listing >>

ملائیشیا : ترقی کے سفر پر گامزن

ملائیشیا ہمارے جنوب مشرق میں ہے۔ اگر بذریعہ ہوائی جہاز کراچی سے جنوب مشرق کی طرف روانہ ہوں تو تقریباً ڈھائی ہزار میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور پہنچ جائیں گے۔ ملائیشیا ہم خشکی کے راستے بھی جا سکتے ہیں۔ کراچی سے اگر مشرق کی طرف چلنا شروع کریں تو کوئی ایک ہزار میل کے بعد کلکتہ پہنچ جائیں گے۔ کلکتہ سے اور آگے مشرق کی طرف جائیں گے تو بنگلہ دیش کا دارالحکومت ڈھاکا آئے گا اور اس کے آگے میانمار (برما) کا شہر رنگون (ینگون) آ جائے گا۔ ا س کے بعد ہمیں جنوب کی طرف رخ کرنا پڑے گا۔ میانمار ختم ہونے کے بعد تھائی لینڈ شروع ہو جاتا ہے۔


تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک کے قریب سے ہوتے ہوئے تھائی لینڈ کے آخری شہر ہات یائی جا پہنچیں گے، جسے ہادیائی یا ہانیائی بھی کہتے ہیں۔ اس کے بعد ملائیشیا شروع ہو جاتا ہے۔ پرلس اور کیداح ملائیشیا کی شمالی ریاستیں ہیں جن سے ہوتے ہوئے پینانگ، پیراق اور پھر سلنگور ریاست میں جا سکتے ہیں جہاں ملائیشیا کا دارالحکومت کوالالمپور ہے۔ مزید جنوب میں جانے پر ملاکا ریاست آتی ہے جہاں ملائیشیا کی نیول اکیڈمی ہے۔ ملاکا کے بعد جوہور ریاست ہے جس کا مشہور شہر جوہور بارو ہے، جو اس کا آخری شہر ہے، اس کے بعد سمندر اور سنگاپور کا جزیرہ ہے۔ 

سنگاپور جوہورو بارو سے پل کے ذریعے ملا ہوا ہے جسے کاز وے کہتے ہیں، جس پر کاریں، بسیں اور ریل گاڑیاں چلتی ہیں۔ ریل گاڑی سنگاپور سے شروع ہوتی ہوئی پورا ملائیشیا پار کر کے تھائی لینڈ پہنچتی ہے۔ آپ چاہیں تو بنکاک سے بذریعہ ٹرین سنگاپور پہنچ سکتے ہیں۔ اسی طرح بسیں، ٹیکسیاں اور کاریں بھی ان تین ملکوں سنگاپور، ملائیشیا اور تھائی لینڈ میں آتی جاتی رہتی ہیں۔ بھارت، برما تنازعہ نہ ہو تو ہم یہاں کراچی سے یا ٹنڈوجام یا ٹنڈو قیصر جیسے گاؤں سے اپنی کار میں بیٹھ کر چھ سات دن میں کوالالمپور یا سنگاپور آرام سے پہنچ سکتے ہیں۔ ملائیشیا اور پاکستان کے معیاری وقت میں تین گھنٹے کا فرق ہے۔ 

ملائیشیا میں، پاکستان کے مشرق میں ہونے کی وجہ سے سورج پہلے طلوع ہوتا ہے۔ اس کے تین گھنٹے بعد سورج پاکستان میں طلوع ہوتا ہے یعنی پاکستان میں جس وقت صبح کے سات بج رہے ہوتے ہیں تو ملائیشیا میں دن کے دس بج رہے ہوتے ہیں۔ انگلینڈ اور پاکستان میں پانچ گھنٹے کا فرق ہے۔ ملائیشیا خط استوا کے بہت قریب ہے۔ خط استوا دنیا کے گولے پر وہ خیالی لکیر ہے جو اسے دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔ ہمارے ملک میں سردیوں میں سورج کی کرنیں ترچھی پڑتی ہیں، کرنیں ترچھی پڑنے کی وجہ سے سردی ہوتی ہے لیکن وہ ملک جو خط استوا کے قریب ہیں، وہاں پورا سال سورج کی کرنیں سیدھی پڑتی ہیں اور سارا سال گرمی رہتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ ان ملکوں میں سارا سال دن اور رات برابر ہوتے ہیں۔ 

ہم جیسوں کے لیے ملائیشیا کے ابتدائی ایام عجیب سے لگتے ہیں۔ پورا سال ایک جیسا لگتا ہے نہ بہار نہ خزاں، ایسی صورت حال میں شاعر کیسے شاعری کرتے ہیں، سمجھ میں نہیں آتا۔ اور یہی سبب ہے کہ یہاں کے لوگ ’’لوٹ آؤ میرے پردیسی بہار آئی ہے‘‘ جیسے شعر نہیں سمجھ سکتے۔ دن اور رات برابر ہونے کی وجہ سے پورا سال نماز کے اوقات اور رمضان المبارک میں سحر اور افطار کے اوقات بھی یکساں رہتے ہیں۔ ملائیشیا میں سردی نہ ہونے کی وجہ سے کوٹ یا سویٹر پہننے کی نوبت نہیں آتی ہے۔ کبھی کبھار سال میں ایک یا دو دفعہ کسی فائیو سٹار ہوٹل میں پُر تکلف دعوت ہوتی تھی تو کوٹ ہاتھ میں لے جاتے اور ہوٹل میں اندر جا کر پہنتے تھے۔ 

ملائیشیا میں آپ کو کئی ایسے لوگ ملیں گے جو 70، 80 سال کے ہوں گے لیکن زندگی میں کبھی کوٹ نہیں پہنا ہو گا۔ ملائیشیا میں پورا سال سردی نہ ہونے کی وجہ سے ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ کوٹ، سویٹر، لحاف، کمبل جیسی چیزوں سے الماریاں خالی رہتی ہیں بلکہ ان چیزوں کی ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے گھر میں الماریاں ہی کم ہوتی ہیں۔ سفر میں بھی آسانی رہتی ہے۔ شمال میں چاہے ملائیشیا کی آخری ریاست پرلس یا کیداح یا تھائی لینڈ چلے جائیں یا جنوب میں سنگاپور تک، کوٹ تو کیا سویٹر کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ دو پینٹ اور شرٹس ہی کافی ہیں۔ ایک آدھ نیکر بھی رکھ لی جائے تو بہت کام آتی ہے، کیونکہ بارش کی وجہ سے شام کو یا چھٹی کے دن چینی اور ملئی لوگ اکثر نیکر اور ہوائی چپل میں نظر آتے ہیں۔ جبکہ انڈین جن میں تامل زیادہ ہیں، لنگوٹی باندھ کر پھرتے ہیں۔ بارش ہونے پر اسے تہہ کر کے گھٹنوں سے اوپر کر لیتے ہیں اور چپل اتار لیتے ہیں۔

الطاف شیخ


 



This post first appeared on MY Pakistan, please read the originial post: here

Share the post

ملائیشیا : ترقی کے سفر پر گامزن

×

Subscribe to My Pakistan

Get updates delivered right to your inbox!

Thank you for your subscription

×